نیویارک(نیوزڈیسک)پیسہ
ہمارے لئے سب کچھ خرید سکتا ہے لیکن یہ کبھی بھی آپ کو خوشی خرید کر نہیں
دے سکتا۔بلغاریہ کی ماہر نفسیات کی جانب سے کی گئی تحقیق نے ماد ہ پرست
مغربی معاشرے کی آنکھیں کھول دی ہیں ۔
ماہر نفسیات کوسٹاڈین کوشلیو کی جانب سے امریکہ میں کی گئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر آپ کے بینک میں پیسہ موجود ہو تو آپ کافی مسائل سے دور رہتے ہیں لیکن یہ پیسہ کبھی بھی آپ کو خوشیاں خرید کر نہیں دے سکتا۔ان کا کہنا ہے کہ پیسہ ہمارے ذہنی تناﺅ کو کم تو کرسکتا ہے لیکن یہ خوشیوں میں اضافہ نہیں کرسکتا۔تحقیق میں 12291امریکیوں کا مطالعہ کیا گیا اور یہ بات علم میں آئی کہ خوشی اور غمی دو مختلف حالتیں ہیں اور کبھی بھی پیسے کے ذریعے انسان اپنی خوشی نہیں خرید سکتا۔
اپنے ہی جنازے پر چینی شہری نے رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیا
تحقیق کاروں کا کہنا تھا کہ
اگر آپ کے گھر میں مرمت کی ضرورت ہو تو یقیناًاس کے لئے پیسے کی ضرورت ہے
اور بینک میں موجود پیسے سے یہ ہو سکتا ہے لیکن اگر آپ ذہنی پریشانی کا
شکار ہوں اور اداسی میں مبتلا ہوں تو بے شک آپ جتنا مرضی پیسا خرچ کر لیں
لیکن یہ کبھی بھی آپ کوخوشی نہیں دے سکتا۔ان کا کہنا تھا کہ خوشی اور غمی
دو مختلف حالتیں ہیں اور ان کا پیسے سے خاص تعلق نہیں۔اگر آپ کو کوئی خاص
کام کرنے سے خوشی محسوس ہو تو اس کا پیسے سے کوئی تعلق نہیں کیونکہ یہ آپ
کی ذہنی حالت پر منحصر ہے کہ آپ کس طرح خوش ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ کروڑوں روپے
کے مالک ہونے کے باوجود بھی خوش نہیں ہوتے جبکہ کچھ لوگ غریب ہوکر بھی خوش
زندگی گزارتے ہیں۔
0 comments :
Post a Comment