
بوسٹن (نیوز ڈیسک) کینسر کا علاج ناقابل یقین حد تک مہنگا ہے مگر ایک
ننھی بچی نے کھانے کی میز پر بیٹھے ہوئے اس کا علاج تجویزکیا اور سائنسدان
حیران رہ گئے کہ یہ حیرت انگیز حد تک سستا اور کارگر حل تھا۔ مائیکل لسانتی
اور ان کی اہلیہ کینسر پر تحقیق کرنے والے سائنسدان ہیں۔مائیکل کہتے ہیں
کہ وہ اور ان کی اہلیہ رات کے کھانے کے دوران کینسر کے علاج پر بات کررہے
تھے۔ اچانک ان کے ذہن میں خیال آیا کہ ازراہ مذاق اپنی 8 سالہ بیٹی کمیلا
سے ہی کینسر کا علاج پوچھ لیاجائے۔
جب
انہوں نے کمیلا سے پوچھا کہ وہ کینسر کا علاج کیسے کرے گی تو ننھی بچی نے
بے ساختہ جواب دیا کہ ’’میں تو اینٹی بائیوٹک سے ہی اس کا علاج کروں گی
جیسا کہ میں اپنا گلا خراب ہونے پر کرتی ہوں‘‘ مائیکل کہتے ہیں کہ پہلے تو
انہیں یہ بات بہت مزاحیہ لگی لیکن پھر انہوں نے سوچا کہ اسے ٹرائی کرنے میں
کیا حرج ہے۔ جب انہوں نے اپنی لیب میں اینٹی بائیوٹک ادویات کو کینسر کے
خلیوں پر استعمال کیا تو یہ جان کر حیران رہ گئے کہ کینسر کے خلیے ختم ہونا
شروع ہوگئے۔ انہوں نے مزید تحقیق میں دریافت کیا کہ چند پیسوں میں دستیاب
اینٹی بائیوٹک سات قسم کے کینسر کے علاج میں مفید ہے، ان میں بریسٹ،
پراسٹیٹ، پھپھڑے اور دماغ کا کینسر بھی شامل ہے۔
0 comments :
Post a Comment