پروین شاکر
یوں حوصلہ دل نے ہارا کب تھا
سرطان میرا ستارہ کب تھا
لازم تھا گزرنا زندگی سے
بن زہر پئے گزارہ کب تھا
کچھ پل اسے اور دیکھ سکتے
اشکوں کو مگر گوارہ کب تھا
ہم خود بھی جرائی کا سبب تھے
اس کا ہی قصور سارا کب تھا
اب اور کے ساتھ ہے تو کیا دکھ
پہلے بھی کو ئی ہمارا کب تھا
اک نام پہ زخم کھل اٹھتے تھے
قاتل کی طرف اشارہ کب تھا
آئے ہو تو روشنی ہوئی ہے
اس بام پہ کوئی ستارہ کب تھا
دیکھا ہوا گھر تھا پر کسی نے
دلہن کی طرح سنوارہ کب تھا
بلاگر کمینٹس
فیس بک کمینٹس